رجسٹرڈ سیاسی و دینی جماعت · قیام 2014
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان
Muttahida Ulema Mashaikh Council of Pakistan
علماء و مشائخ کی ایک کونسل، جو نظامِ مصطفیٰ کے نفاذ، پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور سماجی انصاف پر مبنی اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔


تیس برس سے میدانِ عمل میں
مملکتِ خداداد پاکستان اولیاء اللہ اور علمائے کرام کے فیضان کا کرشمہ ہے، جس کے قیام کا سہرا حکیم الامت و مصورِ پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال، بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ اور ان کے عظیم رفقاء اور جانثار ساتھیوں کی طویل جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے باعث ممکن ہوا۔
تحریکِ پاکستان میں جہاں برصغیر کے مسلمانوں نے متحد ہوکر حضرت قائدِ اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں جدوجہد کی، وہاں مشائخِ عظام اور علمائے کرام کی کوششوں کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
قیامِ پاکستان سے لے کر استحکام و دفاعِ پاکستان تک، مشائخِ عظام، علمائے کرام، تمام مذاہب و مسالک اور پوری قوم نے ہر مشکل گھڑی میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر وطنِ عزیز کی ترقی، سلامتی اور بقا کی خاطر قربانیاں دیں۔
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان گزشتہ تیس برسوں سے اسی عقیدے اور نظریے کی ترجمانی کرتے ہوئے میدانِ عمل میں ہے، اور اسی نصب العین کو اپنی منزل سمجھتی ہے، جس کے لیے کونسل کے بانی چیئرمین ملک صفدر علی اعوان اور ان کے اولوالعزم ساتھیوں نے بڑی جرأت و بہادری کے ساتھ علم بلند رکھا ہے۔
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان مورخہ 22 اکتوبر 2014ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بطور سیاسی و دینی جماعت رجسٹرڈ ہوئی۔
ہمارا مشن پاکستان کو نظریاتی و فکری محاذ پر مضبوط و مستحکم کرنا، نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا عملی نفاذ، اور ایک ایسا اسلامی فلاحی معاشرہ تشکیل دینا ہے جس میں ہر شہری کو سماجی انصاف، انسانی حقوق، تعلیم، صحت، اور روزگار و کاروبار کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ وطنِ عزیز کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدات کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے ملکی سلامتی و دفاع کے ذمہ دار قومی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی بھی ہمارے ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔
— دستور اساسی، ابتدائی صفحات
مرکزی قیادتاغراض و مقاصد
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان کا بنیادی عقیدہ اور نصب العین دین مبین اسلام ہے جس کا ماخذ مقدس قرآن کریم، سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حدیث نبوی اور ملک میں رائج آئین پاکستان ہے۔ جبکہ منزل نظام مصطفیٰ کا نفاذ ہے جس کے بعد ملک میں حقیقی جمہوریت، ترقی، امن اور خوشحالی کا قیام ممکن ہوگا۔
- 01
دو قومی نظریہ اور قومی تشخص
دو قومی نظریہ کے فروغ، اسلامی تشخص، قومی اقدار و ثقافت، روایات، ملک و قوم کی سلامتی، دفاع اور استحکام کے لئے ہر قسم کے اقدامات کرنا۔
- 02
نظامِ مصطفیٰ کا نفاذ
ملک میں نظامِ مصطفیٰؐ کے نفاذ کے لئے صدقِ دل سے جدوجہد کرنا، اس کی آگاہی مہم کے لئے ذرائع ابلاغ، لٹریچر، کانفرنسز اور سیمینارز کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرنا، نیز غیر شرعی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنا۔
- 03
امن، رواداری اور معاشرتی ہم آہنگی
معاشرے میں اتحاد و یگانگت، قیامِ امن، بھائی چارے، رواداری، برداشت اور بقائے باہمی کے لئے فضا سازگار بنانا، اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنا۔
- 04
نظریاتی و علاقائی دفاع
ملک کی نظریاتی اساس کا دفاع، سرحدات کا تحفظ اور استحکام کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا، اور نظریے و عقیدے کی پختگی کے لئے ہر سطح پر جدوجہد کرنا۔
- 05
جمہوریت اور قانون کی بالادستی
جمہوریت، جمہوری اداروں، انسانی حقوق، سماجی انصاف کے تحفظ و فروغ، قانون کی بالادستی اور انصاف کی حکمرانی کے لئے کردار ادا کرنا۔
- 06
خانقاہی نظام کا تحفظ
خانقاہی نظام، اسلامی درسگاہوں اور مساجد کا احیاء و استحکام اور ان کی حفاظت کرنا، نیز تمام مذاہب و ادیان کی عبادت گاہوں کے تقدس و تحفظ کو یقینی بنانا۔
مزید آٹھ مقاصد قومی زبان اور علاقائی ثقافتوں، خواتین کو بااختیار بنانے، مسئلہ کشمیر، ناموسِ رسالت اور دہشت گردی کے خلاف متحدہ محاذ سے متعلق ہیں۔
تمام چودہ مقاصدمرکزی عہدیداران
الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت مرکزی سیکرٹریٹ، کلیام موڑ، راوت میں منعقدہ انٹرا پارٹی انتخابات میں سات عہدیداران بلامقابلہ منتخب ہوئے۔
- ملک صفدر علی اعوانبانی چیئرمینمرکزی چیئرمین
- شہزادی سیمی صفدر علی اعوانمرکزی صدر
- حشمت علی شاہ بخاریمرکزی سینئر نائب صدر
- ملک عثمان اعظمجنرل سیکرٹری
- محمد رفیقآزاد جموں و کشمیرنائب صدر
- ملک شاہد خان اعوانچیئرمین، منشور کمیٹیمرکزی سیکرٹری اطلاعات
- محمد نفاذمرکزی پریس سیکرٹری
اطلاعات و ریکارڈ
مرکزی سیکرٹریٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد
کونسل نے الیکشنز ایکٹ 2017 کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کیے۔ پارٹی الیکشن کمیشن نے سات مرکزی عہدیداران کو بلامقابلہ منتخب قرار دیا۔
مرکزی منشور کمیٹی کی چودہ مقاصد کی توثیق
مرکزی مجلسِ عاملہ نے فلیش مین ہوٹل، راولپنڈی چھاؤنی میں دستور اساسی کی منظوری دی، جس میں کونسل کا نصب العین اور چودہ مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔
کونسل کی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹریشن
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ بطور سیاسی و دینی جماعت باضابطہ رجسٹرڈ کیا گیا۔
کونسل کے ساتھ کھڑے ہوں
رکنیت ہر اس شہری کے لیے کھلی ہے جو کونسل کے نصب العین کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے دستور کو تسلیم کرتا ہے۔ درخواستیں مرکزی سیکرٹریٹ اور مرکزی عہدیداران کے ذریعے وصول کی جاتی ہیں۔
- 1پاکستان کا باشندہ ہو اور عمر اٹھارہ سال سے کم نہ ہو
- 2پارٹی کے دستور اور منشور سے متفق ہو
- 3کسی سرکاری ادارے کا ملازم نہ ہو
- 4رکنیت کی تجدید ہر چار سال بعد ہوتی ہے
